Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
37 - 88
آہ! اب وقت رخصت ہے آیا الوداع تاجدارِمدینہ

صدمۂ ہجرکیسے سہوں گا الوداع تاجدارِمدینہ

                                  کوئے جاناں کی رنگیں فضاؤ!اے معطر مُعَنبر ہواؤ 

                                  لو سلام آخری اب ہمارا الوداع تاجدارِمدینہ

کچھ نہ حُسنِ عمل کرسکاہوں،نَذْر چند اشک میں کررہاہوں

بس یہی ہے مرا کل اثاثہ الوداع تاجدارِ مدینہ

                                  آنکھ سے اب ہُوا خون جاری ،روح پر بھی ہوا رنج طاری 

                                  جلد عطّارؔ کو پھر بلانا الوداع تاجدارِ مدینہ
    اس الوداعی کلام میں اس قدر سوزہے کہ آج بھی کوئی عاشقِ رسول اسے پڑھتا ہے تو اس کی آنکھیں نَم ہوجاتی ہیں۔یہ تو وہ کلام ہے جسے بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مقبولیت کی سند حاصل ہے۔چُنانچہ حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) کے مُبَلِّغ دعوتِ اسلامی عبدالقادرعطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری نے ایک بار خواب میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی زیارت کی ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لب ہائے مبارکہ کو جنبش ہوئی اور رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : الیاس قادِری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ جوتم نے الوداع تاجدار مدینہ والا قصیدہ لکھا ہے وہ ہمیں بَہُت پسند آیا ہے اور کہنا کہ اب کی بار جب مدینے آؤتو کوئی نئی الوداع لکھنا اور ممکن نہ ہو تو وہی الوداع سُنادینا۔
Flag Counter