Brailvi Books

سوانحِ کربلا
42 - 188
ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مطلقاً تمام صحابہ سے افضل اور خلافت و امامت کے لئے سب سے احق واولیٰ ہیں۔(1)

    اشعری کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امامت کاحکم دیاجب کہ انصار ومہاجرین حاضر تھے ۔اور حدیث میں ہے کہ قوم کی امامت وہ کرے جو سب میں اَقْرَء ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ میں سب سے اقرء اور قرآن کریم کے سب سے بڑے عالم تھے۔ اسی لئے صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اَحَقْ بِالْخِلَافَہ ہونے کااستدلال کیاہے۔ ان استدلال کرنے والوں میں سے حضرت عمر اور حضرت علی بھی ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔ ایک جماعت علماء نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت آیات قرآنیہ سے مُسْتَنْبَطْ کی ہے۔(2) وَقَدْ ذَکَرَھَا الشَّیْخُ جَلاَلُ الدِّیْن اَلسُّیُوْطِیُّ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فِیْ تَارِیْخِہٖ۔

    علاوہ بریں اس خلافتِ راشدہ پر جمیع صحابہ اور تمام امت کا اجماع ہے۔ لہٰذا اس خلافت کا منکر شرع کا مخالف اور گمراہ بددین ہے۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ خلافت مسلمانوں کے لئے ظِلِّ رحمت ثابت ہوا اور دین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمکو جو خطرات عظیمہ اور ہولناک اندیشے پیش آگئے تھے وہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے صائب، تدبیر صحیح اور کامل دینداری و زبردست اتباع سنت کی برکت سے دفع
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب اہل العلم والفضل...الخ، الحدیث:۶۷۸، 

ج۱،ص۲۴۲و تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث 

والآیات المشیرۃ الی خلافتہ...الخ، ص۴۷،۴۸ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث والآیات 

المشیرۃ الی خلافتہ...الخ،ص۴۸-۴۹
Flag Counter