Brailvi Books

سوانحِ کربلا
41 - 188
جولوگ میرے بعد ہیں، ابوبکر و عمر، ان کا اتباع کرو۔(1)

     ابن عسا کرنے ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ ایک عورت حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ کچھ دریافت کرتی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا :پھر آئے گی۔ عرض کی: اگر میں پھرحاضر ہوں اور حضورکو نہ پاؤ ں یعنی اس وقت حضورپردہ فرما چکیں۔ اس پر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو آئے او ر مجھے نہ پائے تو ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوجانا کیونکہ میرے بعد وہی میرے خلیفہ ہیں۔ (2)

    بخاری ومسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام مریض ہوئے اور مرض نے غلبہ کیا تو فرمایا کہ ابوبکر کو حکم کروکہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وہ نرم دل آدمی ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ فرمایا:حکم دو ابوبکر کو کہ نماز پڑھائیں۔حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر وہی عذر پیش کیا۔ حضور نے پھر یہی حکم بتاکید فرمایا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارک میں نماز پڑھائی۔ یہ حدیث متواتر ہے۔حضرت عائشہ و ابن مسعود و ابن عباس وابن عُمر و عبداللہ بن زمعہ وابو سعید وعلی بن ابی طالب و حفصہ وغیرہم سے مروی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس پربہت واضح دلالت
1۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم،احادیث فضائل الشیخین، 

الحدیث:۴۵۱۱،ج۴،ص۲۳

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث والآیات 

المشیرۃ الی خلافتہ...الخ،ص۴۷
Flag Counter