Brailvi Books

سوانحِ کربلا
38 - 188
مشاہد میں حضور کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور اپنے عیال و اولاد کوخدا اور رسول کی محبت میں چھوڑ دیا۔آپ جو دوسخا میں اعلیٰ مرتبہ رکھتے ہیں۔ اسلام لانے کے وقت آپ کے پاس چالیس ہزار دینار تھے۔یہ سب اسلام کی حمایت میں خرچ فرمائے۔ بردوں کو آزاد کرانا، مسلمان اسیروں کو چھڑانا آپ کا ایک پیار ا شغل تھا۔ بذل و کرم میں حاتم طائی کو آپ سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ (1)

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم پر کسی شخص کا احسان نہ رہا، ہم نے سب کا بدلہ کر دیا سوائے ابو بکر کے کہ ان کا بدلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت عطا فرمائے گا اور مجھے کسی کے مال نے وہ نفع نہیں دیا جو ابوبکر کے مال نے دیا۔ ( )(رواہ الترمذی عن ابی ہریرہ)

    زہے نصیب صدیق کے کہ حضور انورسلطان دارین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شان میں یہ کلمے ارشاد فرمائے۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کرام میں سب سے اعلم واذکیٰ ہیں۔اس کا بارہاصحابہ کرام نے اعتراف فرمایا ہے۔قرأتِ قرآن، علمِ انساب، علمِ تعبیرمیں آپ فضلِ جلی رکھتے ہیں۔قرآنِ کریم کے حافظ ہیں۔(3) 

(ذکرہ النووی فی التہذیب)
افضلیت
   اہل ِسنت کا اس پر اجماع ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد تمام عالَم سے
1۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی صحبتہ ومشاہدہ،

ص۲۷ و فصل فی انفاقہ مالہ علی رسول اﷲ...الخ،ص۲۹ملخصاً 

2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، 

الحدیث:۳۶۸۱،ج۵،ص۳۷۴

3۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ،فصل فی علمہ...الخ،ص۳۱۔۳۳ملخصاً
Flag Counter