ہر شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم کی دولت سے سرفرا ز فرمایاہے۔ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ جس کے ساتھ عقیدت و نیاز مندی ایمان میں داخل ہو اور بغیر اس کو مانے ہوئے آدمی مومن نہ ہوسکے اس کی محبت تمام عالم سے زیادہ ضروری ہوگی ماں باپ ، اولاد ، عزیزواقارب کے بھی انسان پر حقوق ہیں اور ان کاا دا کرنا لازم ہے۔ لیکن ایک شخص اگر ان سب کوبھول جائے اور اسکے دل میں ایک شمَّہ بھر محبت والفت باقی نہ رہے اور ان سب سے محض بے تعلق ہوجائے تو اسکے ایمان میں کوئی خلل نہ آئے گا کیونکہ ایمان لانے میں ماں باپ ،عزیز و اقارب، اولاد وغیرہ کا ماننا لازم و ضروری نہ تھا لیکن رسول علیہ الصلوٰ ۃ و السلام کا ماننا مومن ہونے کے لئے ضرور ہے۔ جب تک لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ) کا معتقدنہ ہو ہرگز مومن نہیں ہو سکتا تو اگر اس کا رشتہ محبت رسول علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ٹوٹا تو یقیناایمان سے خارج ہوا کہ تصدیق رسالت بے محبت باقی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے شرع مطہر نے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ہر شخص پر اس کے تمام خویش و اقارب، اعزہ واحباب سے زیادہ لازم کی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: