کو بلحاظ اس کے نو عمری کے بھی کہا جاتا ہے اور بلحاظ شفقت بزرگانہ کے بھی، آدمی کی عمر کتنی بھی ہو اس کے بزرگ اس کو جوان بلکہ لڑکا تک کہتے ہیں، شیخ اور بوڑھا نہیں کہتے ہیں اسی طرح بمعنی فُتُوَّت و جوانمردی بھی لفظ ِجوان کا اطلاق ہوتاہے خواہ کوئی شخص بوڑھا ہومگر ہمتِ مردانہ رکھتا ہو وہ اپنی شجاعت وبَسالَت کے لحاظ سے جوان کہلایا جاتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف اگرچہ وقتِ وصال پچاس سے زائد تھی۔ مگر شجاعت و جوانمردی کے لحاظ سے نیز شفقت پدری کے اقتضاء سے آپ کو جوان فرمایا گیا اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ انبیائے کرام و خلفائے راشدین کے سوا امامین جلیلین تمام اہل جنت کے سردار ہیں کیونکہ جوانا نِ جنت سے تمام اہل جنت مراد ہیں اس لئے کہ جنت میں بوڑھے اور جوان کافر ق نہ ہوگا۔ وہاں سب ہی جوان ہوں گے اور سب کی ایک عمر ہوگی۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایا۔ ھُمَا رَیْحَانَیْ مِنَ الدُّنْیَا وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (1)(رواہ الترمذی)
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے او رسینۂ مبارک سے لپٹا تے۔ (2)(رواہ الترمذی )
حضورپرنورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث