Brailvi Books

سوانحِ کربلا
103 - 188
قیامت نما حادثہ
زمین ِکربلا کا خونیں منظر

سیدا لشہداء حضرت امام حسین اور انکے رفقاء کی عدیم المثال جانبازیاں

ولادت مبارکہ
سیدا لشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 5 شعبان  4ھ؁کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کانام حسین اور شبیر رکھا اور آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل ہے اور آپ کے برادرِ معظم کی طرح آپ کو بھی جنتی جوانوں کا سردار اور اپنافرزند فرمایا۔(1) 

    حضور اقدس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے ساتھ کمال رافت و محبت تھی۔ حدیث شریف میں ا ر شادہوا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ ۔(2)
''جس نے ان دونوں (حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔ ''

     جنتی جوانوں کا سردار فرمانے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ راہ خدا عزوجل میں اپنی جوانی میں راہ جنت ہوئے حضرت امامین کریمین ان کے سردار ہیں اور جوان کسی شخص
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، باب الحاء والحسین،۱۱۷۳۔الحسین بن علی،ص۲۵،۲۶ملتقطاً

وسیر اعلام النبلاء،۲۷۰۔الحسین الشہید...الخ،ج۴،ص۴۰۲۔۴۰۴

2۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب رکوب الحسن...الخ،الحدیث:۴۸۳۰، 

ج۴،ص۱۵۶
Flag Counter