| سنتیں اور آداب |
(۱۲)کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہے۔ اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ،
'' کَلِّمُواالنَّاسَ عَلٰی قَدْ رِ عُقُوْلِھِمْ''
(یعنی لوگو ں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو۔)یعنی اس طرح کی باتیں نہ کی جائیں کہ دو سروں کی سمجھ میں نہ آئیں ،الفاظ بھی سادہ صاف صاف ہوں،مشکل ترین الفاظ بھی استعمال نہ کئے جائیں کہ اس طر ح اگلے پر آپ کی علمیت کی دھاک تو بیٹھ جائے گی مگر مدعا خاک بھی سمجھ نہ آئے گا ۔
(۱۳)اپنی زبان کو ہمیشہ بُری باتوں سے روکے رکھیں ۔حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نجات کیا ہے ؟ فرمایا ،'' اپنی زبان کوبر ی باتو ں سے روک رکھو۔''(جامع الترمذی ،کتاب الزہد ،باب ماجاء فی حفظ اللسان ،الحدیث ۲۴۱۴،ج۴،ص۱۸۲)
(۱۴)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم نے زبان کو صحیح استعمال کیا تو اس کا جو کچھ فائدہ ہوگا وہ سارا ہی جسم پائے گا اور اگریہ سیدھی نہ چلی کسی کو گالی وغیرہ دے دی تو زبان کو کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو پٹائی دیگر اعضاء کی ہوگی۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :'' جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے اعضا ء جھک کر زبان سے کہتے ہیں ،'' ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر ! کیونکہ ہم تجھ سے متعلق ہیں ۔ اگر تو سیدھی رہے گی ، ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،الحدیث ۱۱۹۰۸،ج۴،ص۱۹۰)