Brailvi Books

سنتیں اور آداب
108 - 123
مہمان نوازی کی سُنتیں اور آداب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    مہمان نوازی کرناسنتِمبارکہ ہے ،احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں بلکہ یہاں تک فرمایاکہ مہمان باعث ِخیروبرکت ہے ۔ایک دفعہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے یہاں مہمان حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے قرض لے کر اس کی مہمان نوازی فرمائی۔ چنانچہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔ فلاں یہودی سے کہو کہ مجھے آٹا قرض دے ۔ میں رجب شریف کے مہینے میں ادا کردوں گا (کیونکہ ایک مہمان میرے پاس آیا ہوا ہے) یہودی نے کہا، جب تک کچھ گروی نہیں رکھو گے، نہ دوں گا۔ حضرت سیدنا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں واپس آیا اور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں اس کا جواب عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، '' واللہ ! میں آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں۔ اگروہ دے دیتا تو میں ادا کر دیتا۔''( اب میری وہ زرہ لے جا اور گروی رکھ آ۔ میں لے گیا اور زرہ گروی رکھ کر لایا)
(المعجم الکبیر، الحدیث ۹۸۹، ج۱، ص۳۳۱)
مہمان باعث خیرو برکت ہے :
    حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ
Flag Counter