فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم:اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذِکْر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود ِپاک نہ پڑھے۔ (حاکم)
سارے عَلاقے کو سبز سبز پرچموں اوررنگ برنگے بلبوں سے سَجا کر دُلہن بنادیجئے۔مسجِد اور گھر کی چھت پر چوک وغیرہ پر راہگیروں اور سُواریوں کو تکلیف سے بچاتے ہوئے حُقوقِ عامّہ تلف کئے بِغیر فَضا میں مُعلَّق۱۲ میٹر یا حسبِ ضَرورت سائز کے بڑے بڑے پرچم لہرائیے۔ بیچ سڑک پر پرچم مت گاڑیئے کہ اس سے ٹریفک کا نظام مُتأَثِّر ہوتا ہے۔نیز گلی وغیرہ کہیں بھی اِس طرح کی سجاوٹ نہ کیجئے جس سے مسلمانوں کا راستہ تنگ ہو اور اُن کی حق تلفی اور دل آزاری ہو۔
ایک مشرِق، ایک مغرِب ، ایک بامِ کعبہ پر
نَصب پرچم ہوگیا،اَھْلاً وَّسَھْلاًمـرحبا
(وسائلِ بخشش ص۳۴۵)
[۷]: ہراسلامی بھائی حسبِ توفیق زیادہ ورنہ کم از کم ۱۲ روپے کے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسائل اور مَدَنی پھولوں کے مختلف پمفلٹ جلوسِ میلاد میں بانٹے اور اسلامی بہنیں بھی تقسیم کروائیں ۔اِسی طرح سارا سال اپنی دکان وغیرہ پر لنگرِ رسائل کا اہتمام فرماکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے ۔ شادی غمی کی تقاریب میں اور مرحوموں کے ایصالِ ثواب کی خاطر بھی ’’لنگرِ رسائل‘‘ چلائیے اور دیگر مسلمانوں کو اس کی ترغیب دیجئے۔
بانٹ کر مَدَنی رسائل دین کو پھیلائیے
کرکے راضی حق کو حقدارِ جِناں بن جائیے
[۸]:سگِمدینہ کا تحریر کردہ پمفلٹ ’’جشنِ ولادت کے ۱۲مدنی پھول ‘‘ ممکن ہو تو