| سِیاہ فام غلام |
کیا۔ اورنتیجۃً وہ ایسا تباہ وبربادہوا کہ اُسے زمین نے بھی قَبول نہیں کیا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے محبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عِلمِ مبارَک پر اعتِراض کرنا دونوں جہاں میں باعثِ ہلاکت ہے ۔ مومِن شانِ رسالت اور علمِ مصطَفٰے علیہ التَّحِیَّۃُ وَ الثَّناء پر ہرگز اعتِراض نہیں کر سکتا یہ مُنافِقِین ہی کا حصّہ ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے:
اَلنِّفاقُ یُوْرِثُ الْاِعتِراض
یعنی مُنافَقَت اِعتِراض کو جَنم دیتی ہے۔
کریں مصطَفٰے کی اِہانتیں کھلے بندوں اِس پہ یہ جُرأَتَیں کہ میں کیا نہیں ہوں محمّدی! ارے ہاں نہیں! ارے ہاں نہیں!
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت،مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَہ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ