کی: میرے پاس اس کے لئے نہ نمازوں کی کثرت ہے نہ روزہ اور صدقہ ہے لیکن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔تب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تو اس کے ساتھ ہے جس کو تو محبوب رکھتا ہے۔ (1)
(2)…حضرت صفوان بن قدامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی طرف ہجرت کی۔ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی’’ یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اپنا دستِ مبارک دیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا۔ میں نے عرض کی ’’یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں آپ کو محبوب رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ‘‘ مرد جس سے محبت رکھے اس کے ساتھ ہو تا ہے۔ (2)
(3)…حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تاجدارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ کمال درجے کی محبت رکھتے تھے اور انہیں جدائی کی تاب نہ تھی۔ ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرے کا رنگ بدل گیا تھا تو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا، آج رنگ کیوں بدلا ہوا ہے ؟عرض کیا: نہ مجھے کوئی بیماری ہے اور نہ درد سوائے اس کے کہ جب حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے، جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا؟ آپ اعلیٰ ترین مقام میں ہوں گے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقامِ عالی تک رسائی کہاں ؟اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی
’’ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الادب، باب علامۃ حبّ اللہ عزّوجلّ۔۔۔ الخ، ۴/۱۴۷، الحدیث: ۶۱۷۱۔
2…الشفا، القسم الثانی، الباب الثانی فی لزوم محبّتہ صلی اللہ علیہ وسلم، فصل فی ثواب محبّتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۲۰، الجزء الثانی۔
3…النسائ:۶۹۔
4…خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۶۹، ۱/۴۰۰۔