علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ آیتِ کریمہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی محبت کے لازم ہونے، فرض اور اہم چیز ہونے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اس محبت کے اصل مستحق ہونے کے بارے میں ترغیب، تنبیہ اور دلیل و حجت ہونے کیلئے کافی ہے کیونکہ جس نے اپنی آل اولاد اور مال کی محبت کواللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی محبت سے زیادہ سمجھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسے سخت تنبیہ کی ہے اور ایسوں کو ڈراتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ‘‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔ نیز آیت کے آخر میں ایسوں کو فاسق فرمایا اور بتایا کہ یہ لوگ ان گمراہوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق نہ دی۔ (1)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص میں تین باتیں ہوں گی اس نے ایمان کی حلاوت پائی (1) اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے ما سوا سب سے زیادہ محبوب ہو۔ (2)اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔ (3)کفر کی طرف لوٹنے کو ایسابرا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔ (2)
حضرت سہلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جو شخص رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ولایت و حکومت تمام حالات میں نہیں دیکھتا اور اپنی جان کو ان کی مِلک نہیں جانتا تو وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی سنت کی شیرینی نہ چکھے گا کیونکہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ عِنْدَہ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہ ‘‘ تم میں سے وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جس کے نزدیک میں اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ (3)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے محبت رکھنے کا ثواب:
حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے محبت رکھنے کا ثواب کس قدر ہے اس کا اندازہ درج ذیل 3 اَحادیث سے لگایا جا سکتا ہے۔
(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’ایک شخص نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی’’یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَقیامت کب آئے گی؟ ارشاد فرمایا: ’’ تو نے ا س کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الشفا، القسم الثانی، الباب الثانی فی لزوم محبّتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۸، الجزء الثانی۔
2…بخاری، کتاب الایمان، باب حلاوۃ الایمان، ۱/۱۷، الحدیث: ۱۶۔
3…مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عبد اللہ بن ہشام۔۔۔ الخ، ۶/۳۰۳، الحدیث: ۱۸۰۶۹، الشفا، القسم الثانی، الباب الثانی فی لزوم محبّتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۹، الجزء الثانی۔