کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیہ نہیں ، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت درست رکھنے پر خوب توجہ دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ باطن ظاہر کے خلاف ہو۔(1)
مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعْمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ بِالْکُفْرِؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ ۚۖ وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں خود اپنے کفر کی گواہی دے کر ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مشرکوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جبکہ یہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں ، ان کے تمام اعمال برباد ہیں اور یہ ہمیشہ آگ ہی میں رہیں گے۔
{ مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعْمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللہِ:مشرکوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔}اس آیت میں مسجدوں سے بطورِ خاص مسجدِ حرام، کعبہ معظمہ مراد ہے اور اس کو جمع کے صیغے سے اس لئے ذکر فرمایا کہ وہ تمام مسجدوں کا قبلہ اور امام ہے تو اسے آباد کرنے والا ایسا ہے جیسے تمام مسجدوں کو آباد کرنے والا، نیز مسجدِ حرام شریف کا ہر بقعہ مسجد ہے ا س لئے یہاں جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسجد سے مراد جنسِ مسجد ہے یعنی جو بھی مسجد ہو کافروں کو اسے آباد کرنے کی اجازت نہیں اور اس صورت میں کعبہ معظمہ بھی اسی میں داخل ہے کیونکہ وہ توتمام مسجدوں کا سردار ہے۔(2)
شانِ نزول: کفارِ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت جو بدر میں گرفتار ہوئی اور ان میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے چچا حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ان کو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے شرک پر عار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۶، ۶/۸۔
2…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۲۹۔