Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
76 - 576
 دلی دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کے پاس مسلمانوں کے راز پہنچانے سے ممانعت کی گئی ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃًؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗؕ وَ اِلَی اللہِ الْمَصِیۡرُ‘‘ (1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گاتو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ کہ تمہیں ان سے کوئی ڈر ہو اوراللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اوراللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے:
’’بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ الَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ؕ اَیَبْتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًا ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: منافقوں کو خوشخبری دوکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ تو تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے۔ 
	نیز ارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًاؕ وَدُّوۡا مَاعَنِتُّمْۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْۚۖ وَمَا تُخْفِیۡ صُدُوۡرُہُمْ اَکْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بیشک (ان کا) بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ 
نیت درست رکھنا ضروری ہے:
	اس آیت کے آخر میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی نیتوں اور ان کے مَقاصِد سے خبردار ہے اور ان میں سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ال عمران:۲۸۔
2…النساء ۱۳۸،۱۳۹۔
3…ال عمران:۱۱۸۔