عہد شکنی کی تو ان عہد شکنوں کا عہد ساقط کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ چار مہینے وہ امن کے ساتھ جہاں چاہیں گزاریں ان سے کوئی تَعَرُّض نہ کیا جائے گا، اس عرصہ میں انہیں موقع ہے کہ خوب سوچ سمجھ لیں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور اپنی احتیاطیں کرلیں اور جان لیں کہ اس مدت کے بعد اسلام منظور کرنا ہوگا یا قتل۔ یہ سورت 9 ھ میں فتحِ مکہ سے ایک سال بعد نازل ہوئی، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس سال حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا اور ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو حاجیوں کے مجمع میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا ۔ چنانچہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے دس ذی الحجہ کو جَمرہ ٔعَقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی ’’ یٰـاَیُّھَاالنَّاسُ (اے لوگو!)‘‘ میں تمہاری طرف رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ لوگوں نے کہا : آپ کیا پیام لائے ہیں ؟ تو آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے تیس یا چالیس آیتیں اس سورتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائیں ،پھر فرمایا :میں چار حکم لایا ہوں :
(1)… اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبہ معظمہ کے پاس نہ آئے۔
(2)… کوئی شخص بَرَہنہ ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف نہ کرے۔
(3)… جنت میں مؤمن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔
(4)… جس کارسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ عہدہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت مُعَیَّن نہیں ہے اس کی میعاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی۔ مشرکین نے یہ سن کر کہا : اے علی!کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، اپنے چچا کے فرزند (یعنی سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پسِ پُشت پھینک دیا ، ہمارے ان کے درمیان نیزہ بازی اور تیغ زنی کے سوا کوئی عہد نہیں ہے۔ (1)
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت کی طرف اشارہ:
اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تو امیر حج بنایا اور حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ان کے پیچھے سورہ ٔبرا ء ت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ امام ہوئے اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مقتدی، اس سے حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تقدیم حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۴۲۴-۴۲۵،ملتقطاً۔