Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
52 - 576
 تیسرا یہ کہ اگر دارالحرب کے مسلمانوں کی جنگ کسی ایسی کافر قوم سے ہے جن کا ہمارے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے تو ہم اب ان کے خلاف مدد نہیں دے سکتے کیونکہ اس میں بد عہدی ہے بلکہ اب یہ کوشش کی جائے کہ ان کفار اور ان مسلمانوں میں صلح ہو جائے، اگر صلح ناممکن ہے تو ہم غیر جانِبدار رہیں۔ (1) 
	 سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ، یہ کیسی نفیس تعلیم ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے بھی کئے ہوئے عہد کی پاسداری کی جائے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے عہد شکنی کی صورت نکلتی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیمات اَخلاقی اچھائیوں کی انتہا تک پہنچی ہوئی ہیں۔
وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ اِلَّا تَفْعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتْنَۃٌ فِی الۡاَرْضِ وَفَسٰدٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔
 { وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ:اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔} اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔ (2)
	اس آیت کی حقانیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں کو آپس کے عدمِ اتحاد پر فرمایا گیا تھا کہ اس سے فتنہ اورفسادِ کبیر ہوگا اور اب ہر کو ئی دیکھ سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کے خلاف فتنہ اورفسادِ کبیر ہے یا نہیں اور اس کی وجہ بھی مسلمانوں کا عدمِ اتحاد ہے یا نہیں ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر قرطبی، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۲، ۴/۳۳۰، الجزء السابع، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۲، ۳/۳۷۸، ملتقطاً.
2…جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۱۵۴، مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۴۲۲، ملتقطاً