تیسرا یہ کہ اگر دارالحرب کے مسلمانوں کی جنگ کسی ایسی کافر قوم سے ہے جن کا ہمارے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے تو ہم اب ان کے خلاف مدد نہیں دے سکتے کیونکہ اس میں بد عہدی ہے بلکہ اب یہ کوشش کی جائے کہ ان کفار اور ان مسلمانوں میں صلح ہو جائے، اگر صلح ناممکن ہے تو ہم غیر جانِبدار رہیں۔ (1)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ، یہ کیسی نفیس تعلیم ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے بھی کئے ہوئے عہد کی پاسداری کی جائے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے عہد شکنی کی صورت نکلتی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیمات اَخلاقی اچھائیوں کی انتہا تک پہنچی ہوئی ہیں۔
وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ اِلَّا تَفْعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتْنَۃٌ فِی الۡاَرْضِ وَفَسٰدٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔
{ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ:اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔} اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔ (2)
اس آیت کی حقانیت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمانوں کو آپس کے عدمِ اتحاد پر فرمایا گیا تھا کہ اس سے فتنہ اورفسادِ کبیر ہوگا اور اب ہر کو ئی دیکھ سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کے خلاف فتنہ اورفسادِ کبیر ہے یا نہیں اور اس کی وجہ بھی مسلمانوں کا عدمِ اتحاد ہے یا نہیں ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر قرطبی، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۲، ۴/۳۳۰، الجزء السابع، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۲، ۳/۳۷۸، ملتقطاً.
2…جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۱۵۴، مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۳، ص۴۲۲، ملتقطاً