سے لڑے اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے اوراللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور وہ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہ سب ایک دوسرے کے وارث ہیں اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مددمانگیں تو تم پر مدد کرنا واجب ہے مگر یہ کہ ایسی قوم کے خلاف (مدد مانگیں ) کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔} اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ ا س میں پہلے دو گروہوں کا بیان فرمایا گیا: (1)مہاجرینِ اَوَّلِین ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے اور اسی کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت میں انہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا۔ (2) اَنصار۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی مدد کی اور انہیں اپنے مکانوں میں ٹھہرایا۔ پھران مہاجرین اور انصار دونوں کے لئے ارشاد فرمایا کہ مہاجر انصار کے اور انصار مہاجر کے وارث ہیں۔ یہ وراثت آیت ’’ وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ‘‘ سے منسوخ ہوگئی۔ (1)
{ وَ اِنِ اسْتَنۡصَرُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ:اور اگر وہ دین میں تم سے مددمانگیں۔} یعنی جن مسلمانوں نے دارُ الحرب سے ہجرت نہیں کی وہ اگر دارُ الحرب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے تم سے فوجی قوت یا مال سے مدد طلب کریں تو تم پر فرض ہے کہ انہیں نا مراد نہ کرو، ہاں اگر وہ کسی ایسی کافر قوم کے خلاف تم سے مدد طلب کریں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو تو ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد نہ کرو اور مدت پوری ہونے سے پہلے اس معاہدے کو نہ توڑو۔خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں تین مسئلے بیان ہوئے ہیں : ایک یہ کہ غیر مہاجر مومن اگر کسی کافر قوم سے دینی وجہ سے جنگ کریں اور وہ تم سے مدد مانگیں تو مدد دو۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے مسلم بھائی کی دینی جنگ میں مدد کرے۔ دوسرا یہ کہ مدد دینا جہاد میں ضروری ہے نہ کہ محض دنیاوی جھگڑوں میں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۲، ص۴۲۲.