وَنَجَّیۡنٰہُمۡ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہمارا حکم آگیا توہم نے اپنی رحمت کے ساتھ ہود اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو بچالیا اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی۔
{ وَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا:اور جب ہمارا حکم آگیا۔} جب حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے نصیحت حاصل نہ کی تو قادر و قدیر اور سچے رب تعالیٰ کی بارگاہ سے ان کے عذاب کا حکم نافذ ہوگیا، جب ان کی ہلاکت اور ان پر عذاب کا حکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والوں کو جن کی تعداد چار ہزار تھی اپنی رحمت کے ساتھ عذاب سے بچا لیا اور قومِ عاد کو ہوا کے عذاب سے ہلاک کردیا۔ مسلمانوں پر رحمت اس طرح ہے کہ جب عذاب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس سے محفوظ رکھا اور ارشاد فرمایا کہ جیسے مسلمانوں کو دنیا کے عذاب سے بچایا ایسے ہی اللہ تعالیٰ انہیں آخرت کے سخت عذاب سے بھی نجات دے گا۔ (1)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان اور نیک اعمال نجات کا ذریعہ اور سبب ہیں لیکن در حقیقت نجات صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملتی ہے۔
وَ تِلْکَ عَادٌ ۟ۙ جَحَدُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہٗ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمْرَکُلِّ جَبَّارٍعَنِیۡدٍ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ عاد ہیں کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۵۸، ۲/۳۵۸، ملخصاً۔