Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
416 - 576
 پر ہو اورا س روشن دلیل پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک گواہ بھی آئے اور اِس کی صحت کی گواہی دے کیا وہ اُس کی طرح ہو سکتا ہے جو دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہو،ایسا نہیں ، ان دونوں میں عظیم فرق ہے۔ اور اس سے پہلے یعنی قرآن نازل ہونے اور رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمائے جانے سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب تورات ان کے لئے پیشوا اور رحمت تھی کہ وہ لوگ دینی اور شرعی معاملات میں اس کی طرف رجوع کرتے تھے نیز تورات گمراہوں کوہدایت کی راہ دکھاتی تھی ، اور ان اَوصاف کے حامل افراد نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور یہودی ، عیسائی، مجوسی، بتوں کے پجاری وغیرہ تمام کفار اور دیگر اَدیان کو ماننے والوں میں سے جو کوئی حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور قرآن پر ایمان نہ لائے گا تو آخرت میں آگ اس کا وعدہ ہے۔ (1)
	حدیث پاک میں بھی یہ بات بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ا رشاد فرمایا ’’ اس کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی جان ہے، اس اُمت میں جو کوئی بھی ہے یہودی ہو یا نصرانی جس کو بھی میری خبر پہنچے اور وہ میرے دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے تووہ ضرور جہنمی ہے۔ (2)
{فَلَا تَکُ فِیۡ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ:تو اے سننے والے!تجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہ ہو۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے سننے والے! اس دین کے صحیح ہونے اور قرآن کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کے بارے میں شک نہ کر، بیشک یہ تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ا س قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔اس تفسیر کے مطابق آیت کے اس حصے کا تعلق ماقبل مذکور آیت نمبر 13’’ اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ افْتَرٰىہُ‘‘ سے ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے سننے والے! تو اس بات میں شک نہ کر کہ دیگر اَدیان کو ماننے والوں میں سے جو کو ئی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے گا تو آخرت میں اس کا وعدہ آگ ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کفار کے لئے آگ کاوعدہ ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کے اس حصے کا تعلق اسی آیت کے اس حصے’ وَمَنۡ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الۡاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ ‘‘ سے ہے۔(3) 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲/۳۴۶، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۹۲-۴۹۳، ملتقطاً۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی جمیع الناس۔۔۔ الخ، ص۹۰، الحدیث: ۲۴۰(۱۵۳)۔
3…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲/۳۴۶۔