Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
415 - 576
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اللہ کی طرف سے اس پر ایک گواہ آئے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہوجو پیشوا اور رحمت ہے ۔ وہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور تمام گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے توآگ اس کا وعدہ ہے۔ تو اے سننے والے!تجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہ ہو۔بیشک یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 
{اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ:تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو۔} اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا کہ جو اپنے اعمال کے بدلے دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتے ہیں اور اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو اپنے اعمال کے بدلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ (1) بعض مفسرین کے نزدیک  روشن دلیل سے وہ دلیلِ عقلی مراد ہے جو اسلام کی حقانیت پر دلالت کرے اور اس شخص سے جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہووہ یہود ی مراد ہیں جو اسلام سے مشرف ہوئے، جیسے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور گواہ سے مراد قر آنِ پاک ہے۔ (2) اور بعض مفسرین کے نزدیک روشن دلیل سے مراد قرآن پاک اور ’’اس شخص سے جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو‘‘ سے مراد نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَیا اہلِ ایمان اور  گواہ سے مراد حضرت جبرئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔ (3) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے روشن دلیل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲/۳۴۵۔
2…مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۴۹۲، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶/۳۲۹۔
3…جلالین، ہود، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۸۱۔