سخی ہے تو ایسا کہا جا چکا ہے (اب تو چلا جا!آج کے دن ہمارے پاس تیرے لئے کوئی شے نہیں ) ۔پھر شہید کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’تو کس لئے قتل ہوا؟ وہ عرض کرے گا: تو نے مجھے اپنے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا تو میں نے لڑائی کی یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ’’تو جھوٹا ہے اور فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’تیری جہاد کرنے سے نیت یہ تھی کہ لوگ کہیں : فلاں بڑا بہادر ہے۔ تو یہ بات کہہ دی گئی (تو چلا جا!آج کے دن ہمارے پاس تیرے لئے کوئی شے نہیں ) ۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے میرے زانو پر اپنا دستِ اقدس مارتے ہوئے فرمایا ’’اے ابو ہریرہ!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے انہی تین آدمیوں کے ذریعے جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔‘‘
یہی حدیث جب حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا ’’ان تینوں کا یہ حشر ہے تو باقی لوگوں کا کیا حال ہو گا، پھر آپ بہت روئے یہاں تک کہ لوگوں نے خیال کیا کہ آپ جان دے دیں گے، پھر جب حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہوش آیا تو آپ نے چہرہ پونچھ کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے سچ فرمایا
’’ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمْ اَعْمٰلَہُمْ فِیۡہَا وَہُمْ فِیۡہَا لَا یُبْخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اورانہیں دنیا میں کچھ کم نہ دیا جائے گا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں۔(1)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا کے لئے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوران کے ذریعے دنیا طلب کرنے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الریاء والسمعۃ، ۴/۱۶۹، الحدیث: ۲۳۸۹، ابن عساکر، ذکر من اسمہ العلائ، العلاء بن الحارث بن عبد الوارث۔۔۔ الخ، ۴۷/۲۱۴۔