Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
412 - 576
	نیز ترمذی شریف میں ہے کہ جب حضرت شُفَیَّا اصبحیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی: میں فلاں فلاں کے حق سے عرض کرتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جسے آپ نے رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے سنا، سمجھا اور جان لیا ہو، تو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: اچھا میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جسے میں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے سنا، سمجھا اور جانا ہے، پھر آپ سسکیاں لینے لگے یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے ، میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور جب آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جسے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اس مقام پر مجھ سے بیان فرمایا اور ا س وقت ہم دونوں کے سوا کوئی تیسرا آدمی یہاں نہ تھا۔ پھر آپ سسکیاں لینے لگے یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش آیا تو منہ صاف کر کے فرمایا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جسے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اس مقام پر مجھ سے بیان فرمایا اور اس وقت یہاں ہم دونوں کے سوا اور کوئی نہیں تھا، پھر آپ سسکیاں لینے لگے یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر منہ کے بل جھک گئے۔ میں نے کافی دیر تک آپ کو سہارا دیا اور جب ہوش آیاتو فرمایا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ’’جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ بندوں کی طرف متوجہ ہو گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے، اس وقت تمام امتیں گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوں گی اور سب سے پہلے 3 آدمیوں کو بلایا جائے گا۔ (1) جس نے قرآن یاد کیا ہو گا۔ (2) جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا گیا ہو گا۔ (3) زیادہ مالدار شخص۔ اللہ تعالیٰ اس قاری سے فرمائے گا ’’کیا میں نے تمہیں وہ کلام نہ سکھایا جو میں نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر نازل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: ہاں یا رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’تو نے اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں رات دن ا س کی تلاوت کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو (تلاوتِ قرآن سے یہ) چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں قاری ہے، تووہ تجھے کہہ دیا گیا (تو چلا جا!آج کے دن ہمارے پاس تیرے لئے کوئی شے نہیں )۔ پھر دولت مند کو لایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’کیا میں نے تجھے(مال میں ) اتنی وسعت نہ دی کہ تجھے کسی کا محتاج نہ رکھا؟ وہ عرض کرے گا: ہاں یا رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’میری دی ہوئی دولت سے تو نے کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں (اس کے ذریعے) قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتا اور خیرات کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے اور فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو (صلہ رحمی اور خیرات سے یہ) چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں بڑا