Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
41 - 576
	ایک جگہ ارشاد فرمایا
’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَکُمْ اِذَا قِیۡلَ لَکُمُ انۡفِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الۡاَرْضِ ؕ اَرَضِیۡتُمۡ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ فَمَا مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۳۸﴾ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیۡرَکُمْ وَلَا تَضُرُّوۡہُ شَیْـًٔا ؕ وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾ ‘‘ (1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!تمہیں کیا ہوا؟ جب تم سے کہا جائے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین کے ساتھ لگ جاتے ہو ۔ کیا تم آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے ؟ تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سازو سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔ اگر تم (اللہ کی راہ میں )کوچ نہیں کرو گے تووہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گااور تم اس کا کچھ نہیں بگا ڑ سکوگے اوراللہ ہرشے پر قادرہے۔
	اسی طرح کثیر احادیث میں بھی جہاد کی ترغیب دی گئی ہے، ان میں سے 5اَحادیث درج ذیل ہیں :
(1)…صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’سب سے بہتر اس کی زندگی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے، جب کوئی خوفناک آواز سنتا ہے یا خوف میں اسے کوئی بلاتا ہے تو اُڑ کر (یعنی بہت جلد) پہنچ جاتا ہے۔ قتل و موت کو اس کی جگہوں میں تلاش کرتا ہے (یعنی مرنے کی جگہ سے ڈرتا نہیں ہے) یا اس کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لے کر پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں رہتا ہے، وہاں نماز پڑھتا ہے اور زکوٰۃ دیتا ہے اور مرتے دم تک اپنے ربعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا ہے۔ (2)
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین سے اپنے مال، جان اور زبان سے جہاد کرو۔ (3)
	یعنی دینِ حق کی اشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ۔
(3)…حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے اور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے تو وہ نفاق کے ایک حصے پر مرے گا۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…التوبہ۳۸،۳۹.
2…مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الجہاد والرباط، ص۱۰۴۸، الحدیث: ۱۲۵(۱۸۸۹).
3…ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب کراہۃ ترک الغزو، ۳/۱۶، الحدیث: ۲۵۰۴.
4…مسلم، کتاب الامارۃ، باب ذمّ من مات ولم یغز۔۔۔ الخ، ص۱۰۵۷، الحدیث: ۱۵۸(۱۹۱۰).