Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
387 - 576
تم پر کوئی نگران نہیں۔
{ قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ کہ اے اہلِ مکہ! تمہارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے قرآن اور اس کا رسول محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تشریف لائے ہیں تواُن سے جوہدایت حاصل کر لے تو وہ اپنے فائدے کیلئے ہی ہدایت حاصل کررہا ہے کیونکہ اس کی ہدایت کا ثواب اسے ہی ملے گا اور اگر تم میں سے کوئی کفر کرے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں اور کوئی ایمان لائے تو اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّکا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اُسے کوئی نفع یا نقصان پہنچے اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو وہ اپنے ہی نقصان کو گمراہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی گمراہی کا عذاب اسی کی جان پر ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ ا س کی ہدایت اور گمراہی میں کوئی اور شریک نہیں بلکہ ہر جان اپنے کمائے ہوئے اَعمال میں گِروی رکھی ہے اور میں تم پرکوئی نگران نہیں کہ تمہیں ہدایت حاصل کرنے پر مجبور کروں۔ (1) 
وَ اتَّبِعْ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَاصْبِرْ حَتّٰی یَحْکُمَ اللہُ ۚۖ وَ ہُوَ خَیۡرُ الْحٰکِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس وحی کی پیروی کرو جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے اور صبر کرتے رہو حتّٰی کہ اللہ فیصلہ فرما دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
{ وَ اتَّبِعْ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ:اور اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے  اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳/۸۹۶۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۲/۳۳۸۔