Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
386 - 576
ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
{ فَلَاکَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ:تو اس کے سوا کوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں۔} یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو نفع بھی پہنچاتے ہیں اور نقصان بھی جبکہ آیت میں کسی مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار کیا گیا ہے۔ اِس سوال کا جواب آیت کے الفاظ میں ہی موجود ہے کہ مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک کرنقصان نہیں پہنچا سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے نقصان کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس نقصان کو ٹال کر نفع نہیں پہنچا سکتا۔
{ وَ اِنۡ یُّرِدْکَ بِخَیۡرٍ:اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ وُسعت اور آسانی کا ارادہ فرمائے تو اس کے رزق کو روکنے والا کوئی نہیں ،وہی نفع و نقصان میں ہر ایک کا مالک ہے تمام کائنات اسی کی محتاج ہے وہی ہر چیز پر قادر اور جودو کرم والا ہے، بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپانے والا اور ان پر مہربان ہے۔ (1)
قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمْ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفْسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۸﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگوتمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا اور کچھ میں کڑوڑا نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو ہدایت حاصل کرلے تو وہ اپنے فائدے کے لئے ہی ہدایت حاصل کررہا ہے اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اپنے ہی نقصان کو گمراہ ہوتا ہے اور میں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲/۳۳۸۔