ترجمۂکنزالایمان: اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالتا ہے جنہیں عقل نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کسی جان کو قدرت نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیرایمان لے آئے اوراللہ ان لوگوں پر عذاب ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔
{ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ:اور کسی جان کو قدرت نہیں۔} خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے تو بندہ اپنے اختیار سے ایمان قبول کرتا ہے، اپنے چاہنے کی وجہ سے وہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہدایت کا ارادہ نہ کرے تو بندہ اپنی رَغْبت سے کفر پر رہتا ہے اور اس رغبت کا عذاب پاتا ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بندہ مجبور ہے کیونکہ بندے کی رغبت بھی مَشِیَّتِ الٰہی میں داخل ہے۔ مجبور کرنے کی بات تب ہو جب آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہو جیسے رعشے میں مبتلا آدمی کے ہاتھ کانپتے ہیں کہ اگرچہ وہ کتنا ہی اسے روکنا چاہے روک نہیں پاتا تو اگر کوئی آدمی کفر پر اس طرح مجبور ہے کہ وہ دل سے ایمان لانا چاہتا ہے مگر اسے قدرت ہی نہیں ، وہ ایمان لاہی نہیں پاتا، اس کا دل تصدیق ہی نہیں کرتا اور اس کی زبان اقرارِ اسلام کرتی ہی نہیں پھر تو کہا جائے گا کہ اسے کفر پر مجبور کردیا گیا لیکن اگر دل میں قبول کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن پھر بھی کوئی ایمان قبول نہیں کرتا تو وہ ہرگز مجبور نہیں ہے۔
قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِؕ وَمَا تُغْنِی الۡاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوْمٍ لَّایُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیاہے اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا (نشانیاں ) ہیں اور نشانیاں اور رسول ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتے جو ایمان نہیں لاتے۔