وَ لَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤْمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تمہارا رب چاہتا توجتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں ؟
{ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّکَ:اور اگر تمہارا رب چاہتا۔} یعنی ایمان لانا سعادتِ اَزلی پر مَوقوف ہے، ایمان وہی لائیں گے جن کیلئے توفیق الٰہی شاملِ حال ہو، اس آیت میں سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہِ راست اختیار کریں لیکن آپ کی خواہش وکوشش کے باوجود بھی جو لوگ ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے تواس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیے کیونکہ اَزل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا۔(1)
{ اَفَاَنۡتَ تُکْرِہُ النَّاسَ:توکیا تم لوگوں کومجبور کرو گے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کو یہ روا نہیں کہ لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کریں کیونکہ ایمان تصدیق اور اِقرار کا نام ہے اور کسی پر جَبر اور زبر دستی کرنے سے تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہوتی۔ (2)معلوم ہوا کہ کسی کو جبراً مسلمان بنانا درست نہیں ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
’’ لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنۡ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَایَعْقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۹، ۲/۳۳۶۔
2…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۹، ص۴۸۶۔
3…البقرہ:۲۵۶۔