Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
373 - 576
دریا تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر، آگے بڑھتے ہیں تو دریا میں ڈوب جائیں گے پیچھے ہٹتے ہیں تو فرعون کا لشکر انہیں ہلاک کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطرناک حالت میں ان پر اس طرح انعام فرمایا کہ دریامیں ان کیلئے ایک راستہ ظاہر کر دیا، پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اَصحاب کے ساتھ اس میں داخل ہو کر دریا کے پار تشریف لے گئے ، اللہ تعالیٰ نے دریا میں بننے والے رستے کو اسی طرح خشک رکھا تاکہ فرعون حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تَعاقُب میں اپنے لشکر کے ساتھ ا س میں داخل ہو جائے۔ جب فرعون اپنے پورے لشکر کے ساتھ اس دریائی راستے میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے دریا میں پڑے ہوئے شگاف کو ملا کر فرعون کواس کے پورے لشکر سمیت ڈبو دیا ۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس امید پر اپنے اخلاص اور ایمان کااِ ظہار کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت سے نجات دیدے گا۔ (1)
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: ( اُسے کہا گیا) کیا ا ب (ایمان لاتے ہو؟) حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔ 
{ آٰلۡـٰٔنَ:کیا اب۔} ڈوبتے وقت جب فرعون نے ایمان کا اقرار کیا تواس وقت اس سے کہا گیا: کیا اب حالتِ اِضطرار میں جب کہ غرق میں مبتلا ہوچکا ہے اور زندگی کی امید باقی نہیں رہی اس وقت ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور تو فسادی تھا،  خود گمراہ تھا اور دوسروں کو گمراہ کرتا تھا۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام فرعون کے پاس ایک تحریری سوال لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ ایسے غلام کے بارے میں بادشاہ کا کیا حکم ہے جس نے ایک شخص کے مال و نعمت میں پرورش پائی، پھر اس کی ناشکری کی اور اس کے حق کا منکر ہوگیا اور اپنے آپ مولیٰ ہونے کا مدعی بن گیا؟ اس پر فرعون نے یہ جواب لکھا کہ جو غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اس کے مقابل آئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو دریا میں ڈبو دیا جائے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے اس کا وہی فتویٰ اس کے سامنے کردیا اور اس کو اس نے پہچان لیا۔ (2) 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۰، ۶/۲۹۵۔
2…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۱، ص۴۸۴۔