اسی لئے دعا کے آداب میں سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قبولیت کے یقین سے دعا مانگو جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم اللہ تعالیٰ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا مانگا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل دل سے(دعا کرنے والے کی )دعا قبول نہیں فرماتا۔ (1)
وَجٰوَزْنَا بِبَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوۡدُہٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرٰٓءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا عبور کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور ظلم سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب اسے غرق ہونے نے آلیا تو کہنے لگا: میں اِس بات پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمان ہوں۔
{ قَالَ اٰمَنۡتُ:فرعون نے کہا: میں ایمان لایا۔} جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرما لی تو بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایک معین وقت میں مصر سے روانہ ہو جائیں اور اس کیلئے اپنا سامان بھی تیار کر لیں ، فرعون اس معاملے سے غافل تھا، جب ا س نے سنا کہ بنی اسرائیل اس کا ملک چھوڑنے کے عَزم سے نکل گئے ہیں تو وہ ان کے پیچھے روانہ ہوا، جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے ساتھ روانہ ہوئے اور دریا کے کنارے پہنچے اور ادھر فرعون بھی اپنے لشکر کے ساتھ ان کے قریب پہنچ گیا تو بنی اسرائیل شدید خوف میں مبتلا ہو گئے کیونکہ سامنے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۵-باب، ۵/۲۹۲، الحدیث: ۳۴۹۰۔