Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
370 - 576
{ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ:اور ان کے دلوں کو سخت کردے۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تب آپ نے ان کے لئے یہ دعا کی اور ایسا ہی ہوا کہ وہ غرق ہونے کے وقت تک ایمان نہ لائے۔ (1) 
آیت’’ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	 اس آیت سے دو چیزیں معلوم ہوئیں :
(1)…مال عام طور پر غفلت کا سبب بنتا ہے، اس لئے مالدار کو اپنے مُحاسبے کی زیادہ حاجت ہے کہ کہیں اس کے مال نے اسے غافل تو نہیں کردیا۔ اسی لئے قرآن میں فرمایا گیا 
’’اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ‘‘ (2) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔
	اور فرمایا گیا
’’ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمْوٰلُکُمْ وَ اَوْلٰدُکُمْ فِتْنَۃٌ ۙ وَّاَنَّ اللہَ عِنۡدَہٗۤ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جان لوکہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان ہے اوریہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔
(2)… دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ دل کی سختی بڑا عذاب ہے ۔ دل کی سختی کا معنی ہے کہ نصیحت دل پر اثر نہ کرے، گناہوں سے رغبت ہو اور گناہ کرنے پر کوئی پشیمانی نہ ہو اور توبہ کی طرف توجہ نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام کرنا دل کی سختی( کا باعث ہے) اور سخت دل آدمی اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہوتا ہے۔ (4)
	اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دل کی سختی سے محفوظ فرمائے ، یاد رہے کہ اگر کوئی آدمی نیک اعمال کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آتے تو اسے سخت دل نہیں کہا جاسکتا کہ اصل مقصود آنسو بہانا نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔
قَالَ قَدْ اُجِیۡبَتۡ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیۡمَا وَ لَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۴۸۳۔
2…تکاثر:۱،۲۔		3…انفال:۲۸۔
4…ترمذی، کتاب الزہد، ۶۲-باب منہ، ۴/۱۸۴، الحدیث: ۲۴۱۹۔