غریب و مساکین تھے، جب ان کے پاس مال آیا تو پھر ان پر مال کا چوتھائی حصہ زکوٰۃ نکالنی فرض ہوئی۔
وَقَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّاَمْوٰلًا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوٰلِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور موسیٰ نے عرض کی اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو آرائش اور مال دنیا کی زندگی میں دیئے اے رب ہمارے اس لیے کہ تیری راہ سے بہکاویں اے رب ہمارے ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے عرض کی: اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور مال دیدیا، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے بھٹکا دیں۔ اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
{ وَقَالَ مُوۡسٰی:اور موسیٰ نے عرض کی۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے عظیم معجزات دکھانے کے باوجود فرعونی اپنے کفر و عناد پر قائم رہے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کے خلاف دعا فرمائی : اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش ،عمدہ لباس ،نفیس فرش، قیمتی زیور اورطرح طرح کے سامان دئیے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مال و دولت کے ذریعے لوگوں کوتیرے راستے سے بھٹکانے لگے ۔ اے ہمارے رب ! عَزَّوَجَلَّ، ان کے مال برباد کردے کیونکہ وہ تیری نعمتوں پر بجائے شکر کے جَری ہو کر مَعْصِیَت کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول ہوئی اور فرعونیوں کے درہم ودینار وغیرہ پتھر ہو کر رہ گئے اور یہ ان 9 نشانیوں میں سے ایک ہے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دی گئی تھیں۔ (1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۸، ۲/۳۲۹، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۴۸۳، ملتقطاً۔