(2)… حکمرانوں کی پرانی روِش یہی چلتی آرہی ہے کہ اصلاح قبول کرنے کی بجائے وہ سمجھانے والے پر جھوٹے الزام لگا کر اور اسے اِقتدار کا لالچی قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج بھی اس بات کو دیکھا جاسکتا ہے کہ غلط اندازِ حکمرانی پر ٹوکا جائے تو حکمران کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری حکومت ختم کرکے اپنی حکومت لانا چاہتے ہیں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوۡنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۷۹﴾ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلْقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلْقُوۡنَ ﴿۸۰﴾ فَلَمَّاۤ اَلْقَوۡا قَالَ مُوۡسٰی مَا جِئْتُمۡ بِہِ ۙ السِّحْرُ ؕ اِنَّ اللہَ سَیُبْطِلُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾ وَیُحِقُّ اللہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور فرعو ن بولا ہر جادوگر علم والے کو میرے پاس لے آؤ۔پھر جب جادوگر آئے ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے۔پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا یہ جو تم لائے یہ جادو ہے اب اللہ اسے باطل کردے گا اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔اور اللہ اپنی باتوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے پڑے برا مانیں مجرم۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعو ن نے کہا: ہر علم والے جادوگر کو میرے پاس لے آؤ۔پھر جب جادوگر آگئے توان سے موسیٰ نے کہا: ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو ۔پھر جب انہوں نے ڈال دیا توموسیٰ نے کہا: جو تم لائے ہو یہ جادو ہے۔ بیشک اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ فساد والوں کے کام کو نہیں سنوارتا۔اور اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو حق کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔
{ وَقَالَ فِرْعَوْنُ:اور فرعو ن نے کہا۔} سرکش ومتکبر فرعون نے چاہا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزہ کا مقابلہ باطل سے کرے اور دنیا کو اس مُغالطہ میں ڈالے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جادو کی قسم سے ہیں اس لئے وہ بولا :حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مقابلہ کیلئے ہر علم والے جادوگر کو میرے پاس لے آؤ۔(1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۷۹، ۲/۳۲۷۔