ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَکْبَرُوۡا وَکَانُوۡا قَوْمًا مُّجْرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں لے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
{ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ:پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا۔} یہاں دیگر انبیاءِ کرام ، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کرنے سے مقصود نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا ہے۔ (1)
نوٹ: ان آیات میں مذکور واقعہ اور دیگر واقعات سورۂ اَعراف آیت103تا 156 میں گزر چکے ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنۡدِنَا قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۶﴾ قَالَ مُوۡسٰۤی اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَکُمْ ؕ اَسِحْرٌ ہٰذَا ؕ وَلَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوۡنَ ﴿۷۷﴾ قَالُوۡۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا وَتَکُوۡنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآءُ فِی الۡاَرْضِ ؕ وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے۔ موسیٰ نے کہا کیا حق
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۷۵، ۳/۸۸۶۔