Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
360 - 576
فَکَذَّبُوۡہُ فَنَجَّیۡنٰہُ وَمَنۡ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰہُمْ خَلٰٓئِفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَانۡظُرْ کَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۷۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے نائب کیا اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا تو ہم نے اسے اور کشتی میں اس کے ساتھ والوں کو نجات دی اور انہیں ہم نے جانشین بنایااور جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی انہیں ہم نے غرق کردیا تو دیکھو ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا جنہیں ڈرایا گیا تھا۔ 
{ فَکَذَّبُوۡہُ:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا ۔} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ان کی قوم کے درمیان ہونے والے معاملات کا بیان فرمایا اور اس آیت میں ان معاملات کا انجام بیان فرمایا ہے۔اس آیت میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے اصحاب کے بارے میں دو چیزیں بیان ہوئیں :
(1)…اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار سے نجات دی۔
(2)…کفار کو غرق کرنے کے بعد حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھیوں کو زمین میں ان کا جانشین بنایا۔ کفار کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ اس میں کفار کے لئے بہت عبرت ہے کہ جو لوگ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول کو جھٹلائیں گے ان پر ویسا عذاب آ سکتا ہے جیسا حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلانے والوں پر آیا ، وہیں ایمان والوں کے لئے بھی نصیحت ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں کو مخالفین کے شر سے نجات دی اسی طرح انہیں بھی مخالفین کے شر سے بچائے گا۔ (1)
	نوٹ: حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے چند واقعات سورۂ اَعراف آیت 59تا64 میں گزر چکے ہیں ، مزید تفصیلی واقعات سورۂ ہود اور دیگر سورتوں میں مذکور ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۷۳، ۶/۲۸۶۔