Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
352 - 576
بلکہ کائنات میں عزت کا پیمانہ ہی حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذات ِ مبارکہ ہے جو آپ سے جتنا قریب ہے وہ اتنا ہی زیادہ معزز ہے چنانچہ صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سب سے زیادہ قریب تھے تو اُمت میں سب سے معزز بھی وہی ہیں اور ابوجہل سب سے زیادہ دور تھا اس لئے کفار میں سب سے خبیث ترین بھی وہی قرار پایا۔ 
اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرْضِ ؕ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: سن لو بیشک اللہ ہی کی مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اور کاہے کے پیچھے جا رہے ہیں وہ جو اللہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: سن لو! بیشک اللہ ہی مالک ہے سب کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس کی پیروی کررہے ہیں ؟ وہ تو صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگا رہے ہیں۔ 
{ اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ:سن لو! بیشک سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} اس آیت سے پہلے آیت نمبر 55 میں ارشاد ہوا تھا کہ ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرْضِ‘‘ اور اس آیت میں ارشاد ہوا ’’ اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرْضِ‘‘ ان دونوں آیتوں کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عقل والے ہوں یا بے عقل تمام جمادات، نباتات، حیوانات، جن ، انسان اور فرشتے سب کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہی ہے اور جب ہر چیز اس کی مَملوک ہے تو ان میں سے کوئی معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا اور شریکوں کی عبادت کرنے والے کس دلیل کی بنا پر ان کی عبادت کر رہے ہیں  ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ صرف جھوٹے اندازے لگارہے ہیں اور بے دلیل محض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک کی پرستش باطل ہے۔ (1)  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶/۲۷۹، ملخصاً۔