Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
351 - 576
 گے تویہ غمگین نہ ہوں گے۔‘‘ اور حضورپُر نور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) نے یہ آیت پڑھی۔
 ’’ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ‘‘ (1)

ترجمۂکنزُالعِرفان:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(2)
{ لَا تَبْدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ:اللہ کی باتیں بدلتی نہیں۔} یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے غلط نہیں ہوسکتے جو اس نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان سے اپنے اَولیاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اور اپنے فرمانبردار بندوں سے فرمائے ہیں۔ (3)
وَلَا یَحْزُنۡکَ قَوْلُہُمْ ۘ اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو بیشک عزت ساری اللہ کے لیے ہے وہی سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کروبیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے ، وہی سننے والا جاننے والاہے۔ 
{ وَلَا یَحْزُنۡکَ قَوْلُہُمْ:اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو۔} اس آیت میں سرورِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو تسلی دی گئی ہے کہ کفار نابکار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے خلاف برے مشورے کرتے ہیں آپ اس کا کچھ غم نہ فرمائیں۔ بیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ، اے سیّدِ انبیاء! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ناصر و مددگار ہے، اس نے آپ کو اور آپ کے صدقے میں آپ کے فرمانبرداروں کو عزت دی، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ
’’ وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ‘‘ (4)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے۔(5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…یونس:۶۲۔
2…ابوداؤد، کتاب الاجارۃ، باب فی الرہن، ۳/۴۰۲، الحدیث: ۳۵۲۷۔
3…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۳۲۴۔
4…منافقون:۸۔
5…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۵، ۲/۳۲۴، ملخصاً۔