Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
337 - 576
چیز نہیں ہے ۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے،اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اور کوئی شریک نہیں تو قیامت کے دن کسی کافر کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پانے کیلئے فدیے کے طور پر دینے کیلئے کوئی چیز نہ ہوگی کیونکہ سب چیزوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہے بلکہ کافر خود بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملک میں ہے تو اس کا فدیہ دینا کیسے ممکن ہے۔ (1)
{اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ:سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ثواب اور عذاب کا وعدہ فرمایا ہے وہ سچا ہے اور ضرور پورا ہو گا لیکن ان میں سے اکثر لوگ اپنی عقل کی کمی اور غفلت کے غلبے کی وجہ سے اسے نہیں جانتے اور وہ صرف دنیا کی ظاہری زندگی کو جاننے تک ہی محدود ہیں اسی لئے وہ ایسی غلط باتیں بولتے اور غلط کام کرتے ہیں۔(2) 
{ہُوَ یُحْیٖ:وہ زندہ کرتا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ کسی کی دخل اندازی کے بغیر وہی دنیا میں زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور آخرت میں تم دوبارہ زندہ ہو کر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (3)
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمۡ مَّوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ۬ۙ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔
{ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ:اے لوگو!۔} اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۸۷۶، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۲/۳۱۹، ملتقطاً۔
2…روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۵۵، ۴/۵۳۔
3…روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۵۶، ۴/۵۳۔