کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
{وَلَوْ اَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الۡاَرْضِ:اور زمین میں جو کچھ ہے اگر ہر ظالم جان اس کی مالک ہوجائے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں زمین کے اندر جو خزانہ اور مال و دولت ہے یہ سب اگر ہر کافر و مشرک کی مِلک میں ہوتا تو وہ یقینااپنی جان چھڑانے کے معاوضے میں دیدیتا اور قیامت کے دن اسے اپنی رہائی کے لئے فِدیہ کر ڈالتا، لیکن یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کرکے بھی اب رہائی ممکن نہیں۔ جب قیامت میں یہ منظر پیش آئے گا اور کفار کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور کافروں کے سردار عذاب دیکھیں گے تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ اور پشیمان ہوں گے لیکن اپنی شرمندگی عام کافروں سے چھپانے کی کوشش کریں گے اور اس دن ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔ (1)چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفر و شرک کی سزا کا دائمی ہونا بیان فرما دیا اور قانون بنا دیا تو اب جسے یہ سزا ملے گی اسے یقینا قانون کے مطابق ملے گی اور قانون کے مطابق سزا انصاف ہی ہوتی ہے۔
اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾ ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ ﴿۵۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں۔وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ سن لو! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر نہیں جانتے۔ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
{ اَلَاۤ اِنَّ لِلہِ:سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے۔} اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ ہر کافر تمنا کرے گا کہ اگر روئے زمین کی تمام چیزیں میری ملک میں ہوتیں تو وہ سب فدیے میں دے دیتا اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس کی ملکیت میں کوئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۵۴، ۲/۳۱۹، جلالین، یونس، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۱۷۵، ملتقطاً ۔