Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
331 - 576
ترجمۂکنزالایمان: اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کاذاتی  اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب آئے گا ۔تم فرماؤ میں اپنی جان کیلئے نقصان اور نفع کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔ ہر گروہ کے لئے ایک مدت ہے تو جب وہ مدت آجائے گی تووہ لوگ ایک گھڑی نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے ہوسکیں گے۔ 
{ وَ یَقُوۡلُوۡنَ:اور کہتے ہیں۔} جب نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کفار کو عذاب نازل ہونے سے ڈرایا اور ایک عرصہ گزرنے کے باوجود عذاب نہ آیا تو اس وقت کفار نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو یہ عذاب کاوعدہ کب آئے گا۔ (1) 
{قُلۡ لَّاۤ اَمْلِکُ لِنَفْسِیۡ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ:تم فرماؤ! میں اپنی جان کیلئے نقصان اور نفع کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔}اس آیت میں کفار کے اس قول ’’اگر تم سچے ہو تو یہ  وعدہ کب آئے گا ‘‘ کا جواب دیا گیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دشمنوں پر عذاب نازل کرنے اور دوستوں کے لئے مدد ظاہر کرنے کی قدرت اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ اور وعید کو پورا کرنے کا ایک وقت مُعیّن کر دیا ہے اور اس وقت کا تَعَیُّناللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر مَوقوف ہے اور جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ وعدہ بہرصورت پورا ہوگا۔ (2)
	 اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ فرما دیں کہ’’ میں اپنی جان کیلئے نقصان اور نفع کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قادر کئے بغیر میں اپنی جان پر بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتاالبتہ اللہ تعالیٰ جس چیز کا چاہے مجھے مالک و قادر بنا دیتا ہے۔ (3)
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو نفع و نقصان کا اختیار ملا ہے:
	بکثرت آیات اور اَحادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفع و نقصان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی قدرت اور اختیار میں دیا ہے جیسے ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۴۸، ۶/۲۶۲۔
2…تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۴۹، ۶/۲۶۲۔
3…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۴۹، ۲/۳۱۸۔