Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
295 - 576
کو مبعوث فرمایا اس سے لے کر قیامت تک ان کی امت میں مسلمان یا کافر جتنے لوگ ہوں گے سب زمین میں گزشتہ قوموں کے جانشین ہیں۔ (1)
{ لِنَنۡظُرَکَیۡفَ تَعْمَلُوۡنَ:تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟} یعنی تاکہ ہم تمہارے اعمال کا امتحان لیں کہ تم اچھے یا برے کیسے عمل کرتے ہو اور تمہارے اعمال کے مطابق تم سے معاملہ فرمائیں۔ (2)
	حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں جانشین بنایا ہے، پس وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔(3) 
	 اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہیں تھا اور جب مشرکین عمل کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسامعاملہ فرمائے گا جیسا امتحان لینے والا لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اسے ہر چیز کا ہمیشہ سے علم ہے۔
وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَایَرْجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْہُ ؕ قُلْ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیۡ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجئے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۸۵۹۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲/۳۰۵۔
3…ترمذی، کتاب الفتن، باب ما اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ بما ہو کائن الی یوم القیامۃ، ۴/۸۱، الحدیث: ۲۱۹۸۔