پاس روشن دلیلیں لے کر آئے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی قوموں کوہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ۔ ہم یونہی مجرموں کوبدلہ دیتے ہیں۔
{ وَلَقَدْ اَہۡلَکْنَا الْقُرُوۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ:اور بیشک ہم نے تم سے پہلی قوموں کوہلاک کردیا۔} یعنی اے کفارِ مکہ! تم سے پہلی قوموں نے جب شرک کر کے اپنی جانوں پرظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے جو اُن کے صدق کی بہت واضح دلیلیں تھیں لیکن اُنہوں نے نہ مانا اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تصدیق نہ کی اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ رسولوں پر ایمان لاتے اور جو کچھ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے لائے تھے اس کی تصدیق کرتے تو جس طرح رسولوں کو جھٹلانے کے سبب ہم نے ان گزری ہوئی قوموں کو ہلاک کر دیا اسی طرح اے مشرکو! میں اپنے حبیب محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی تکذیب کرنے پر تمہیں بھی ہلاک کر دوں گا۔ (1)
ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرْضِ مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ لِنَنۡظُرَکَیۡفَ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟
{ ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرْضِ مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ:پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا ۔} اس آیت میں خطاب اہلِ مکہ سے ہے جبکہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے لوگو! پھر ہم نے گزشتہ اُمتوں کے بعد جنہیں ہلاک کردیا گیا تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا۔ (2)
سابقہ قوموں کے جانشین:
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲/۳۰۴-۳۰۵۔
2…خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲/۳۰۵۔