ترجمۂکنزالایمان:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔
{ لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے۔} یعنی اے اہلِ عرب! بیشک تمہارے پاس تم میں سے عظیم رسول، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے جو کہ عربی، قرشی ہیں۔ جن کے حسب ونسب کو تم خوب پہچانتے ہو کہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم اُن کے صدق و امانت، زہد و تقویٰ، طہارت وتَقَدُّس اور اَخلا قِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے ہو۔ یہاں ایک قراء ۃ میں اَنۡفُسِکُمْ ‘‘فا پر زبر کے ساتھ آیا ہے، اس کا معنی ہے کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل ہیں ‘‘ (1)
حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا فضل و شرف:
اس آیت میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اَوصاف اور فضیلت و شرف کا ذکر ہوا، اس مناسبت سے ہم یہاں آپ کے فضائل اور اَخلاقِ حمیدہ کے بیان پر مشتمل دو روایات ذکر کرتے ہیں۔
(1)…حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے بہترین رکھا، پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے اچھے گروہ میں رکھا۔ پھر قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلے میں رکھا۔ پھر ان کے خاندان بنائے تو مجھے ان میں سے اچھے خاندان میں رکھا اور سب سے اچھی شخصیت بنایا۔(2)
(2)…حضرت جعفر بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نجاشی کے دربار میں فرمایا ’’اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے، بتوں کی عبادت کرتے ، مردار کھاتے، بے حیائی کے کام کرتے ، رشتے داریاں توڑتے اور پڑوسیوں سے بد سلوکی کیا کرتے تھے اور ہم میں سے جو طاقتور ہوتا وہ کمزور کا مال کھا جا یا کرتا تھا۔ ہمارا یہی حال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک رسول ہماری طرف بھیج دیا جن کے نسب ،صداقت، امانت اور پاک دامنی کو ہم پہچانتے تھے، انہوں نے ہمیں دعوت دی کہ ہم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۲/۲۹۸۔
2…ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم، ۵/۳۵۰، الحدیث: ۳۶۲۷۔