Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
270 - 576
ہے جبکہ کافر کی نگاہ صرف موسم کی خرابیوں اور دنیاوی اَسباب پر ہوتی ہے اور یہ منافقین والا حال آج کی بہت بڑی تعداد کا ہے کہ سیلاب، زلزلہ اور اس طرح کی کسی بھی آفت و مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سائنسی تَوجیہات میں تولنا شروع کردیتے ہیں۔ 
وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتْ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ ؕہَلْ یَرٰىکُمۡ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَفْقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں پھر پلٹ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر پلٹ جاتے ہیں تواللہ نے ان کے دل پلٹ دیئے ہیں کیونکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں۔
{ وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتْ سُوۡرَۃٌ:اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی ایسی سورت نازل کی جاتی ہے کہ جس میں منافقین کو زَجر وتَوبیخ اور ان کے نفاق کا بیان ہو تو وہ وہاں سے بھاگنے کیلئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور آنکھوں سے نکل بھاگنے کے اشارے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تم اپنی نشست گاہ سے اٹھو تو اس وقت مومنوں میں سے کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ،اگر دیکھ رہا ہو تو بیٹھ گئے ورنہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس نازل ہونے والی سورت کے سبب ایمان سے اپنے کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل ایمان سے پلٹ دیئے ہیں کیونکہ یہ قوم سمجھتی ہی نہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سوچتی۔ (1)
لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲/۲۹۸،  مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ص۴۶۰، ملتقطاً۔