کی صحبت اختیار کرو جن کی صورت دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے ، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے، جن کا عمل تمہیں آخرت کا شوق دلائے۔ (1) اللہ تعالیٰ ہمیں نیک لوگوں کو اپنا دوست بنانے ،علم کی مجالس اور علماء کی صحبت میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اِجماع حجت ہے:
علامہ عبداللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اجماع حجت ہے کیونکہ اللہتعالیٰ نے صادقین کے ساتھ رہنے کا حکم فرمایا، اس سے اُن کے قول کو قبول کرنا لازم آتا ہے۔ (2)
نیز اس حدیثِ پاک سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اجماع حجت ہے، چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ‘‘بے شک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی،تو جب تم اختلاف دیکھو تو بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ (3)
مَاکَانَ لِاَہۡلِ الْمَدِیۡنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعْرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللہِ وَلَایَرْغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمْ عَنۡ نَّفْسِہٖ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ لَایُصِیۡبُہُمْ ظَمَاٌ وَّلَانَصَبٌ وَّلَامَخْمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَلَایَطَـُٔوۡنَ مَوْطِئًا یَّغِیۡظُ الْکُفَّارَ وَلَایَنَالُوۡنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صٰلِحٌ ؕ اِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: مدینے والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسولُ اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، ص۱۷۲۔
2…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ص۴۵۸۔
3…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم، ۴/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۵۰۔