Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
259 - 576
	یاد رہے کہ کسی کو اپنا پیرو مرشد بنانے کا ایک بہت بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کی صحبت کے ذریعے اس سے فیض حاصل کیا جاسکے ۔یونہی باعمل علماء کی صحبت میں بیٹھنے کی بھی بہت فضیلت ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے۔ ’’علماء کی صحبت میں بیٹھنا عبادت ہے۔ (1)
	 دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو چر لیا کرو ۔ عرض کی گئی، یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جنت کے باغ کیا چیز ہیں ؟ارشاد فرمایا: علم کی مَجالس۔ (2) 
	 حضرت سہل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جو چاہتا ہے کہ وہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی مجلسوں کی طرف دیکھے اسے چاہیے کہ علماء کی مجلسوں کی طرف دیکھے کہ کوئی مرد آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے فلاں (یعنی مولانا صاحب، مفتی صاحب) آپ اس مرد کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے اپنی عورت کے بارے میں اس اس طرح قسم کھائی، پس وہ عالم کہتا ہے کہ اس کی عورت کو طلاق ہو گئی اور ایک دوسرا شخص آتا ہے اور کہتاہے ،آپ اس مرد کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے اپنی عورت کے بارے میں ایسے ایسے قسم اٹھائی تو وہ کہتا ہے کہ وہ مرد اپنی اس بات کے ساتھ حانِث (قسم توڑنے والا) نہیں ہوا اور یہ بات کہنا (یعنی احکامِ شرع بیان کرنا)جائز نہیں مگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور علماء کے لیے۔ پس اس بات سے علماء کی شان پہچان لو۔ (3)
	 حضرت بہزبن حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو علماء کی صحبت میں بیٹھا تحقیق وہ میری صحبت میں بیٹھا اور جو میری صحبت میں بیٹھا یقینا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں بیٹھا۔(4)
	 حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’علماء کی مجالس سے الگ نہ رہو اس لئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے روئے زمین پر علماء کی مجالس سے مکرم کسی مٹی کوپیدا نہیں فرمایا۔ (5)
      حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشا د ہے: ایسے لوگوں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مسند الفردوس، باب المیم، ۴/۱۵۶، الحدیث: ۶۴۸۶۔
2…معجم الکبیر، باب العین، مجاہد عن ابن عباس، ۱۱/۷۸، الحدیث: ۱۱۱۵۸۔
3…الفقیہ والمتفقہ، ذکر احادیث واخبار شتی یدلّ جمیعہا علی جلالۃ الفقہ والفقہائ، ۱/۱۴۹، روایت نمبر: ۱۳۶۔
4…کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول فی الترغیب فیہ، ۵/۷۴، الحدیث: ۲۸۸۷۹، الجزء العاشر۔
5…احیاء علوم الدین، کتاب ترتیب الاوراد وتفصیل احیاء اللیل، الباب الاول فی فضیلۃ الاوراد وترتیبہا واحکامہا، بیان اختلاف الاوراد باختلاف الاحوال، ۱/۴۶۰۔