Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
254 - 576
 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نہ آجائے لہٰذا مُمانَعت سے پہلے اس فعل کے کرنے میں حَرج نہیں۔ (1)شانِ نزول : جب مومنین کو مشرکین کے لئے اِستغفار کرنے سے منع فرمایا گیا تو انہیں اندیشہ ہوا کہ ہم پہلے جو استغفار کرچکے ہیں کہیں اس پر گرفت نہ ہو، اس آیت سے انہیں تسکین دی گئی اور بتایا گیا کہ ممانعت کا بیان ہونے کے بعد اس پر عمل کرنے سے مُؤاخَذہ ہوتا ہے۔ (2)اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں شریعت کی طرف سے ممانعت نہ ہو وہ جائز ہے۔
لَقَدۡ تَّابَ اللہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنۡۢ بَعْدِ مَاکَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان:بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اللہ کی رحمت متوجہ ہوئی نبی پر اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل وقت میں نبی کی پیروی کی حالانکہ قریب تھا کہ ان میں سے بعض لوگوں کے دل ٹیڑھے ہوجاتے پھر اللہ کی رحمت ان پر متوجہ ہوئی ۔ بیشک وہ ان پر نہایت مہربان، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
{ لَقَدۡ تَّابَ اللہُ عَلَی النَّبِیِّ:بیشک اللہ کی رحمت نبی پر متوجہ ہوئی۔} نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ رحمۃ للعالمین ہیں اورآپ پر رحمت ِ الٰہی کا رجوع یوں ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو معصوم ہونے کے باوجود بکثرت توبہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائی گئی جو آپ کی بلندیٔ درجات اور مسلمانوں کیلئے تعلیم کا ذریعہ تھی اور مسلمانوں کو بہت سے معاملات میں توبہ کی توفیق دی گئی اور اس توبہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قبول بھی فرمایا۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۴۵۷، خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲/۲۸۸، ملتقطاً۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۲/۲۸۸۔