حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک آدمی حِلم کے ذریعے روزہ دار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ (1)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’حلیم شخص دنیا میں سردار ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سردار ہو گا۔ (2)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان صِفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ ہَدٰىہُمْ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمۡ مَّا یَتَّقُوۡنَ ؕ اِنَّ اللہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾ اِنَّ اللہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُ ؕ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ کی شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے گمراہ فرمائے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔بیشک اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی والی اور نہ مددگار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کردے جب تک انہیں صاف نہ بتادے کہ کس چیز سے انہیں بچنا ہے ۔بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔بیشک اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے ،وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ہے اور نہ مددگار۔
{ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمۡ:جب تک انہیں صاف نہ بتادے۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ جو چیز ممنوع ہے اور اس سے اِجتناب واجب ہے اس پر اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندوں کی گرفت نہیں فرماتا جب تک کہ اس کی ممانعت کا صاف بیان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۳۶۹، الحدیث: ۶۲۷۳۔
2…کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحلم والانائ، ۲/۵۵، الحدیث: ۵۸۰۷، الجزء الثالث۔