Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
249 - 576
	اسی بات کو عام الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقوقُ اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پورا کرنے والے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں دونوں چیزوں کی اہمیت ہے۔ یہ نہیں کہ حقوقُ اللہ میں مگن ہو کر حقوق العباد چھوڑ دیں اور حقوق العباد میں مصروف ہوکر حقوقُ اللہ سے غافل ہوجائیں۔ ہمارے ہاں یہ اِفراط و تفریط بکثرت پائی جاتی ہے اور یہ دین سے جہالت کی وجہ سے ہے۔ 
مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں  اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔
{ مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا:نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں۔} شانِ نزول: اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے استغفار کروں گا جب تک کہ مجھے ممانعت نہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ممانعت فرمادی۔ (1)
	بعض مفسرین نے یہ شانِ نزول بیان کیا کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اپنی والدہ کی زیارت ِ قبر کی اجازت چاہی اس نے مجھے اجازت دی پھر میں نے ان کے لئے استغفار کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ’’مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ‘‘ (2)
	لیکن یہ ہرگز درست نہیں چنانچہ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شانِ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بخاری، کتاب التفسیر، باب ما کان للنبیّ والذین آمنوا۔۔۔ الخ، ۳/۲۴۰، الحدیث: ۴۶۷۵۔
2…مستدرک، کتاب التفسیر، زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر امّہ آمنۃ، ۳/۷۱، الحدیث: ۳۳۴۵۔