Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
234 - 576
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ موقوف رکھے گئے ہیں  اللہ کے حکم پر یا ان پر عذاب کرے  یا ان کی توبہ قبول کرے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کے حکم کی وجہ سے کچھ دوسروں کو مؤخر کردیا گیا ہے ۔یا تو اللہ انہیں عذاب دے گا اور یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔
{ وَ اٰخَرُوۡنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللہِ:اور اللہ کے حکم کی وجہ سے کچھ دوسروں کو مُؤخر کردیا گیا ہے ۔}یعنی غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں مَوقوف رکھا گیا ہے یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ظا ہر ہو جائے، اگر وہ اپنے جرم پر قائم رہے اور توبہ نہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں عذاب دے گا اور اگر انہوں نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔ (1) غزوۂ تبوک سے رہ جانے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی تعداد دس تھی، ان میں سے سات صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ندامت و شرمندگی کی وجہ سے خود کو مسجد کے ستونوں سے بندھوا لیا تھا۔ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں ان سات صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اعترافِ جرم اور توبہ کی قبولیت کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں ہوا جبکہ بقیہ تین صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے چونکہ اُن کی طرح ستونوں سے بندھ کر اپنی توبہ اور ندامت کا اظہار نہ کیا تھا اس لئے ان کی توبہ کی قبولیت کو مؤخر کردیا گیا۔ اس آیت میں انہی تین صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ذکر ہے۔ (2)ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکراسی سورت کی آیت نمبر 118 میں ہے۔
وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیۡقًۢا بَیۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبْلُ ؕ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰی ؕ وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۴۵۳۔
2…مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۴۵۳-۴۵۴، ملخصاً۔